歌词
یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ
اک روشنی اندھیروں میں بکھرا گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ میں
وہ حادثہ وہ پہلی ملاقات کیا کہوں
کتنی عجب تھی صورت حالات کیا کہوں
وہ قہر وہ غضب وہ جفا مجھ کو یاد ہے
وہ اسکی بے رخی کی ادا مجھ کو یاد ہے
مٹاتا نہیں ہے ذہن سے یوں چھا گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ میں
پہلے وہ مجھ کو دیکھ کے برہم سی ہو گئی
پہلے وہ مجھ کو دیکھ کے برہم سی ہو گئی
پِھر اپنے ہے حَسِین خیالون میں کھو گئی
بےچارگی پہ میری اسے رحم آگیا
شاید میرے تڑپنے کا انداز بھا گیا
سانسوں سے بھی قریب میرے آ گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ میں
اب اِس دِل تباہ کی حالت نہ پوچھیے
اب اِس دِل تباہ کی حالت نہ پوچھیے
بے نام آرزووں کی لذت نا پوچھیے
اک اجنبی تھا روح کا ارمان بن گیا
اک حادثہ تھا پیار کا ، عنوان بن گیا
منزل کا راسته مجھے دکھلا گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ میں
اک روشنی اندھیروں میں بکھرا گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ میں