歌词
یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے
یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے
یہ تیری نگاہ کا قصور ہے
یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے
یہ تیری نگاہ کا قصور ہے
کہ شراب پینا سکھا دیا
کہ شراب پینا سکھا دیا
تیری بہکی بہکی نگاہ نے مجھے اِک شرابی بنا دیا
تیری بہکی بہکی نگاہ نے مجھے اِک شرابی بنا دیا
تیری بہکی بہکی نگاہ نے مجھے اِک شرابی بنا دیا
دور رہتا ہے پاس رہتا ہے
دل میں تو ضرور رہتا ہے
جب سے دیکھا ہے تیری آنکھوں میں
ہلکا ہلکا سرور رہتا ہے