歌词 دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہیے ہوا رقیب تو ہو ہوا رقیب تو ہو نامہ بر ہے کیا کہیے زہر کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب کہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے کیا کہیے دیا ہے دل اگر