歌词
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
یہ نہ تھی ہماری قسمت
تیرے وعدے پر جیئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مَر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
کہ خوشی سے مَر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
یہ نہ تھی ہماری قسمت
کہوں کِس سے میں کہ کیا ہے شبِ غم بٌری بلا ہے
کہوں کِس سے میں کہ کیا ہے شبِ غم بٌری بلا ہے
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
یہ نہ تھی ہماری قسمت
ہوئے مَر کہ ہم جو رُسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اُٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
نہ کبھی جنازہ اُٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
یہ نہ تھی ہماری قسمت
کہوں کِس سے میں کہ کیا ہے شبِ غم بٌری بلا ہے
کہوں کِس سے میں کہ کیا ہے شبِ غم بٌری بلا ہے
مٌجھے کیا بٌرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
مٌجھے کیا بٌرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
یہ نہ تھی ہماری قسمت
یہ مسائلِ تصوف یہ تیرا بیانِ غالبؔ
تُجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا
تُجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
یہ نہ تھی ہماری قسمت