歌词
تیرے سوا کیا جانے کوئی
دل کی حالت ربا، سامنے تیرے گزری مجھ پر
کیسی قیامت ربا
♪
میں وہ کس طرح سے کروں بیاں، جو کئے گئے ہیں ستم یہاں
میں وہ کس طرح سے کروں بیاں، جو کئے گئے ہیں ستم یہاں
سنے کون میری یہ داستاں، کوئ ہمنشیں ہے نہ رازداں
جو تھا جھوٹ وہ بنا سچ یہاں، نہی کھولی میں نے مگر زباں
یہ اکیلاپن، یہ اداسیاں، میری زندگی کی ہیں ترجماں
میری ذات ذرّۂِ بے نشاں
میری ذات ذرّۂِ بے نشاں
♪
کبھی سونی صبح میں گھومنا، کبھی اجڑی شاموں کو دیکھنا
کبھی سونی صبح میں گھومنا، کبھی اجڑی شاموں کو دیکھنا
کبھی بھیگی آنکھوں سے جاگنا، کبھی بیتے لمحوں کو سوچنا
مگر اک پل ہے امید کا، ہے مجھے خدا کا جو آسرا
نہ ہی میں نے کوئی گلا کیا، نہ ہی میں نے دی ہیں دہائیاں
میری ذات ذرّۂِ بے نشاں
میری ذات ذرّۂِ بے نشاں
♪
میں بتاؤں کیا مجھے کیا ملے، مجھے صبر ہی کا صلہ ملے
میں بتاؤں کیا مجھے کیا ملے، مجھے صبر ہی کا صلہ ملے
کسی یاد ہی کی ردا ملے، کسی درد ہی کا صلہ ملے
کسی غم کی دل میں جگہ ملے، جو میرا ہے وہ مجھے آ ملے
رہے شاد یوں ہی میرا جہاں، کے یقیں میں بدلے میرا گماں
میری ذات ذرّۂِ بے نشاں
میری ذات ذرّۂِ بے نشاں
میری ذات ذرّۂِ بے نشاں
میری ذات ذرّۂِ بے نشاں
میری ذات ذرّۂِ بے نشاں
میری ذات ذرّۂِ بے نشاں