歌词
گل ہوئی جاتی ہے
افسردہ سلگتی ہوئی شام
گل ہوئی جاتی ہے
افسردہ سلگتی ہوئی شام
دھل کے نکلے گی ابھی
چشمۂ مہتاب سے رات
گل ہوئی جاتی ہے
افسردہ سلگتی ہوئی شام
گل ہوئی جاتی ہے
♪
گل ہوئی جاتی ہے
افسردہ سلگتی ہوئی شام
اور مشتاق نگاہوں کی
سنی جائے گی
اور مشتاق نگاہوں کی
سنی جائے گی
اور ان ہاتھوں سے
مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہات
گل ہوئی جاتی ہے
افسردہ سلگتی ہوئی شام
گل ہوئی جاتی ہے
♪
ان کا آنچل ہے کہ رخسار کہ پیراہن ہے
ان کا آنچل ہے کہ رخسار کہ پیراہن ہے
کچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیں
جانے اس زلف کی موہوم گھنی چھاؤں میں
ٹمٹماتا ہے وہ آویزہ ابھی تک کہ نہیں
گل ہوئی جاتی ہے
افسردہ سلگتی ہوئی شام
گل ہوئی جاتی ہے
♪
آج پھر حسن دل آرا کی وہی دھج ہوگی
آج پھر حسن دل آرا کی وہی دھج ہوگی
وہی خوابیدہ سی آنکھیں وہی کاجل کی لکیر
رنگ رخسار پہ ہلکا سا وہ غازے کا غبار
صندلی ہاتھ پہ دھندھلی سی حنا کی تحریر
اپنے افکار کی اشعار کی دنیا ہے یہی
جان مضموں ہے یہی شاہد معنیٰ ہے یہی
اپنا موضوع سخن ان کے سوا اور نہیں
طبع شاعر کا وطن ان کے سوا اور نہیں
یہ خوں کی مہک ہے کہ لب یار کی خوشبو
یہ خوں کی مہک ہے
یہ خوں کی مہک ہے کہ لب یار کی خوشبو
کس راہ کی جانب سے صبا آتی ہے دیکھو
گلشن میں بہار آئی
گلشن میں بہار آئی کہ زنداں ہوا آباد
کس سمت سے نغموں کی صدا آتی ہے دیکھو
گل ہوئی جاتی ہے
افسردہ سلگتی ہوئی شام
گل ہوئی جاتی ہے
افسردہ سلگتی ہوئی شام
دھل کے نکلے گی ابھی
چشمۂ مہتاب سے رات
گل ہوئی جاتی ہے
افسردہ سلگتی ہوئی شام
گل ہوئی جاتی ہے